منبرِ حسینؑ کے وارث؛ خطباء و ذاکرین کی ذمہ داریاں اور فرائض

حوزہ/جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو صرف مجالس کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جب لاکھوں دل منبرِ حسینؑ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، لوگ اپنے ایمان کی تازگی، اپنی فکری رہنمائی اور اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے مجالسِ عزا کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں منبر پر بیٹھنے والا خطیب، ذاکر یا واعظ صرف چند باتیں سنانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ دلوں کا معلم، ذہنوں کا راہنما اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کا ترجمان بن جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو صرف مجالس کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جب لاکھوں دل منبرِ حسینؑ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، لوگ اپنے ایمان کی تازگی، اپنی فکری رہنمائی اور اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے مجالسِ عزا کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں منبر پر بیٹھنے والا خطیب، ذاکر یا واعظ صرف چند باتیں سنانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ دلوں کا معلم، ذہنوں کا راہنما اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کا ترجمان بن جاتا ہے۔

منبرِ حسینؑ ایک عام منبر نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قرآن کی آواز سنائی دیتی ہے، جہاں اہل بیت علیہم السلام کی سیرت بیان ہوتی ہے، جہاں انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور زندگی کے صحیح راستے کو تلاش کرتا ہے۔ اسی لیے منبر پر آنے والا ہر شخص ایک بڑی امانت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ عقیدوں کو مضبوط بھی کر سکتا ہے اور کمزور بھی، دلوں کو جوڑ بھی سکتا ہے اور توڑ بھی سکتا ہے، نسلوں کی تعمیر بھی کر سکتا ہے اور غفلت کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔

آج جب فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، سوشل میڈیا کے فتنوں اور دینی بے توجہی نے معاشرے کو گھیر رکھا ہے، منبر کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں خطباء اور ذاکرین کا فرض ہے کہ وہ صرف واقعات نہ سنائیں بلکہ شعور دیں، مقصد صرف آنسو نہ ہوں بلکہ کردار سازی کریں، صرف جذبات نہ ابھاریں بلکہ فکر و بصیرت کی شمعیں روشن کریں

لوگ یہاں صرف واقعات سننے نہیں آتے بلکہ اپنے دلوں کے سوالات، اپنے ایمان کی تشنگی، اپنی فکری الجھنوں اور اپنی روحانی ضرورتوں کا جواب لینے آتے ہیں۔ ایسے میں خطیب کی ذمہ داری محض گفتگو کرنا نہیں بلکہ دلوں کو بیدار کرنا، ذہنوں کو روشن کرنا اور انسانوں کو خدا کے قریب کرنا ہوتی ہے۔

قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے: “ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ”. “اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔”

یہ آیت ہر مبلغ، خطیب اور ذاکر کے لیے ایک مکمل منشور ہے۔ دعوتِ دین صرف آواز بلند کرنے کا نام نہیں بلکہ حکمت، بصیرت، علم اور حسنِ بیان کا تقاضا کرتی ہے۔

منبر پر بیٹھنے والے کی پہلی ذمہ داری علم ہے۔ دین کے نام پر گفتگو کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن، حدیث، تاریخ، عقائد اور عصر حاضر کے مسائل سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔ جس شخص کے پاس علم نہیں، وہ رہنمائی نہیں کر سکتا۔ جو خود راستہ نہیں جانتا، وہ دوسروں کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات مطالعے اور تحقیق کی جگہ حافظے اور روایت کی تکرار لے لیتی ہے، جبکہ منبرِ اہل بیتؑ ہمیشہ علم و آگہی کا مرکز رہا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “لوگوں کو ہمارا علم سکھاؤ، کیونکہ اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتی کو جان لیں تو ہماری پیروی کریں گے۔”

یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب خطیب وہ نہیں جو صرف بلند آواز میں بول لے بلکہ وہ ہے جو علم کے چراغ سے دلوں کو روشن کر دے۔

خطباء اور ذاکرین کی دوسری بڑی ذمہ داری سچائی اور دیانت ہے۔ منبرِ حسینؑ پر بیٹھ کر بیان کی جانے والی ہر بات ایک امانت ہے۔ واقعۂ کربلا، سیرتِ اہل بیتؑ اور اسلامی تاریخ کے متعلق غیر مستند واقعات، مبالغہ آمیز قصے اور جذباتی داستانیں وقتی طور پر سامعین کو متاثر تو کر سکتی ہیں، لیکن دین اور تاریخ دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:“جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔”

لہٰذا ایک ذاکر اور خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحقیق کو اپنا شعار بنائے اور صرف وہی بات بیان کرے جس کی علمی بنیاد موجود ہو۔ منبر کی عظمت سچائی سے قائم رہتی ہے، مبالغے سے نہیں۔

خطباء و ذاکرین کی تیسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مجلس کو صرف جذباتی اجتماع نہ بننے دیں بلکہ اسے شعور و بصیرت کی درسگاہ بنائیں۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام ہے۔ اگر مجلس کے بعد سامع ظلم سے نفرت، حق سے محبت، نماز کی پابندی، اخلاق کی اصلاح اور دین سے وابستگی کا جذبہ لے کر نہ اٹھے تو مقصدِ تبلیغ ادھورا رہ جاتا ہے۔

کربلا صرف رونے کا نام نہیں، جاگنے کا نام بھی ہے۔

کربلا صرف مصیبت کا عنوان نہیں، اصلاحِ امت کا منشور بھی ہے۔

کربلا صرف آنسو نہیں، شعور بھی ہے۔

لہٰذا خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعۂ کربلا کو عصر حاضر کے مسائل سے جوڑے، تاکہ سامع یہ سمجھ سکے کہ امام حسینؑ کا پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا چودہ سو سال پہلے تھا۔

موجودہ دور میں یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج نوجوان نسل فکری یلغار، الحاد، اخلاقی انتشار، سوشل میڈیا کے طوفان اور تہذیبی حملوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات ہیں۔ اگر منبر ان سوالات کا جواب نہیں دے گا تو گمراہ کن ذرائع دے دیں گے۔

اسی لیے خطباء کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی زبان سمجھیں، ان کے مسائل جانیں، ان کے شبہات سنیں اور قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کریں۔ صرف ماضی کے واقعات دہرانا کافی نہیں، حال کے مسائل کا حل بھی پیش کرنا ضروری ہے۔

ایک کامیاب خطیب وہ ہے جو نوجوان کے دل میں دین سے محبت پیدا کر دے، اسے سوچنے پر مجبور کرے اور اسے اپنے رب کے قریب لے آئے۔

خطباء اور ذاکرین کی ایک اور اہم ذمہ داری اپنے کردار کی حفاظت ہے۔ لوگ صرف تقریر نہیں سنتے بلکہ مقرر کی زندگی کو بھی دیکھتے ہیں۔ اگر زبان اخلاص کی بات کرے اور عمل دنیا پرستی کا نمونہ ہو تو الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “جو خود کو لوگوں کا رہنما بنائے، اسے دوسروں کی تعلیم سے پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔”

منبر کی اصل طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے مصلحین نے اپنی زبان سے زیادہ اپنے عمل کے ذریعے دلوں کو فتح کیا ہے۔

خطباء و ذاکرین کو اتحادِ امت، اخلاقِ اسلامی اور احترامِ انسانیت کے فروغ کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ منبر نفرتوں کو بڑھانے کا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کا مقام ہے۔ اختلافات کے باوجود اخلاق، حکمت اور شائستگی کو قائم رکھنا اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔

اسی طرح وقت کی پابندی، موضوع کی ترتیب، زبان کی شائستگی، سامعین کی نفسیات کا لحاظ اور مجلس کے تقدس کا احترام بھی ایک خطیب کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں۔ غیر ضروری طوالت، تکرار اور غیر متعلقہ گفتگو سامعین کی توجہ کو منتشر کر دیتی ہے اور مجلس کے اثر کو کم کر دیتی ہے۔

سب سے بڑھ کر ہر خطیب اور ذاکر کو اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ منبر عبادت ہے، تجارت نہیں۔ یہ خدمت ہے، شہرت کا ذریعہ نہیں۔ یہ امانت ہے، ذاتی مفادات کا وسیلہ نہیں۔

ہر محرم سے پہلے اور ہر مجلس کے بعد ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:

میں نے یہ سب کس کے لیے کیا؟

اگر جواب خدا، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ، اہل بیت علیہم السلام اور اصلاحِ امت ہے تو یہ سعادت ہے۔ لیکن اگر مقصد تعریف، شہرت، مقابلہ آرائی یا دنیاوی مفاد ہو تو پھر سمجھیے کہ منبر کی روح مجروح ہو رہی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ خطباء اور ذاکرین اپنے منصب کی عظمت کو پہچانیں۔ وہ خود کو صرف مقرر نہ سمجھیں بلکہ امت کے معمار، نسلوں کے مربی، دین کے محافظ اور مکتبِ اہل بیتؑ کے نمائندے سمجھیں۔ اگر منبر علم، اخلاص، تحقیق، بصیرت اور کردار کے ساتھ زندہ رہے گا تو امت کا شعور بھی زندہ رہے گا، دین بھی محفوظ رہے گا اور کربلا کا پیغام بھی نسل در نسل منتقل ہوتا رہے گا۔

بارِ الٰہا ہمارے خطباء، ذاکرین اور واعظین کو علمِ نافع، اخلاصِ کامل، جرأتِ حق گوئی، حسنِ کردار اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرما، اور انہیں منبرِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کا سچا امین بننے کی سعادت نصیب فرما۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha